Home / شاعری / تیری محفل میں مجھے یوں نہ پکارا جائے
URDU POETRY

تیری محفل میں مجھے یوں نہ پکارا جائے

تیری محفل میں مجھے یوں نہ پکارا جائے
کسی تہمت کا تری سمت اشارہ جائے
میرے قاتل کو بری کر دے مگر دھیان رہے
تیرے ہاتھوں سے کہیں عدل نہ مارا جائے
جز محبت کے کوئی اور بھی ہے کھیل یہاں
جیتنے کے لیے جس کھیل کو ہارا جائے
کچھ نہیں جس میں فقط بغض و کدورت کے سوا
ایسی دنیا سے کیا ، کیوں نہ کنارا جائے
مصلحت کوش سے بس اتنی گزارش ہے مری
جھوٹ اور سچ کو بہرحال نتارا جائے
ہے تو منظور سر دار بھی آنا لیکن
پابہ زنجیر نہ گلیوں سے گزارا جائے
جب مقدر ہی نہ دے ساتھ تو پھر سوچ عزیز
دور کشتی سے بھلا کیوں نہ کنارا جائے
شاعر: رحمت علی عزیز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے