Home / کالم / احساس ، رویے اور نفرت و تضاد
uae urdu online

احساس ، رویے اور نفرت و تضاد

تحریر: مراد علی شاہد دوحہ قطر
احساس ایسا جذبہ ہے جو رشتوں میں پائیداری و مضبوطی کا باعث قرار پاتا ہے۔ احساس کا تعلق براہ راست انسانی روح سے منسلک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی مظلوم پر جبرواستبداد کا بازار گرم ہو رہا ہو، کمزور و ناتواں انصاف کے دربار کا دریوزہ گر بنے سسک سسک کر مر رہا ہو۔ مذہب کے نام پر انسانیت کا قتل عام کیا جا رہا ہو، یا پھر کسی جانور کو سدھا کر اس سے وہ کام لیا جا رہا ہو جو ا س کی جبلت کا خاصہ نہ ہو تو ایک درد مند اور احساس رکھنے والے شخص کا کلیجہ منہ کو آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور اس کی روح ایسی تذلیل دیکھتے ہی دریدہ تر دریدہ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

جبکہ نفرت و تضاد وہ منفی سوچ ہے جو سر تا پا منفی فکر سے احساس کے دا من کو نفرت سے بھر کر انسان کی روح دریدہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی۔ نفرت بھی اگرچہ ایک احساس ہی کا نام ہے مگر اس عمل میں مثبت رویے کا جنم پزیر ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احساس فکر رکھنے کے باوجود انسان ایسی سوچ کا متحمل ہو جاتا ہے جس میں تضاد، نفرت، تشدد، خون ریزی اور منفی رویے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ جو کسی بھی مہذب معاشرہ کاخاصہ نہیں ہوا کرتے، اور نہ ہی ایسے فکر و افکار اور منفی رویے کسی طور بھی مثالی معاشرہ پیدا کرنے میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ معاشرہ افراد کی اجتماعی سوچ کا عکاس ہوتا ہے۔ اس لئے اکثریتی آبادی کے منفی رویے کبھی بھی صحت مند معاشرہ کو جنم نہیں دے سکتے۔ ہاں مثبت رویے، مثبت سوچ اور احساس انسانیت جس معاشرے کی تشکیل کے اہم عناصر ہونگے ایسے معاشرہ کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا، احساس کی اس سے اچھی اور بہتر مثال ہو ہی نہیں سکتی کہ ہم سب نے اپنے اپنے بچپن میں کوئی نہ کوئی جانور ضرور گھر میں پالا ہوگا جسے پالتو جانور کہا جاتا ہے آپ دیکھیں کہ جب بھی کبھی کوئی چڑیا، کتا، طوطا یا بلی مر جایا کرتی تو بچے اس کو باقاعدہ طور پر دفنا یا کرتے تھے اور اس کی قبر پر بھی گاہے گاہے جایا کرتے تھے یہ وہ احساس تھا جو بچپن میں تو موجود تھا مگر اب کہیں وہ کھو گیا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو تحریک پاکستان بھی ایک ملی احساس کا نام تھا کیونکہ مسلمانان ِ برصغیر کے ملی آدرش ہی دراصل مسلمانوں کو ایک جغرافیہ سے جوڑنے کا باعث بن رہے تھے۔ خطبہ الہ آباد 1930 کے اگر فکر اقبال کا جائزہ لیا جائے تو اس کی سوچ بھی احساس ملی کی ہی غماز تھی، کہ وہ مسلمان علاقے جو ایک دوسرے سے متصل ہیں انہیں الگ وطن بنا دیا جائے کیونکہ ان کی سوچ وفکر ایک ہے۔ یہی سوچ دراصل وحدت اور ملی احساس کے ظہور کا باعث تھا۔ اسی احساس سے وحدت، یک جہتی، ملت اور ایک دوسرے پر اعتماد کا رشتہ پیدا ہوتا ہے۔ جو معاشرتی ترقی اور قومی تہذیب میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ کہ جب تک آپ کے اندر احساس انسانیت پید انہیں ہوگی اس وقت تک آپ دوسروں کے مذاہب کا بھی احترام نہیں کر پائیں گے اور اپنے دین کی پاسداری میں بھی کامیاب و کامران نہیں ہو پائیں گے۔ لہذا فی زمانہ اگر ہمارے اندر یہ احساس جنم لے لے کہ ہم نے کسی کے احساس کو ٹھیس نہیں پہنچانی اور اپنے احساس کو مثبت رویوں سے دوسروں کو محفوظ بنانا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ ہر سو ہمیں انسان اور انسانیت ہی نظر آئے گی۔
سرحدیں اور جغرافیائی عوامل ان رویوں کے اثرات کو بھی روک نہیں پائیں گی۔ ہم نے کبھی غور کیا کہ منفی سوچ سے پیدا ہونے والے جغرافیائی عوامل اور سرحدیں اور حدود و قیود نے ہماری روح تک کو گھائل کر دیا ہوا ہے۔ انسان تو کجا ہم نے اپنے منفی رویوں سے عمارات کو بھی اپنی اس نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ مثلا تاج محل، قطب مینار، لال مسجد، اکبر، شاہ جہاں الغرض غالب و سر سید بھی ہندوستانی حدود اور جغرافیائی حدود میں دکھائی دیتے ہیں اور اس سے نفرت و تضاد پیدا ہونے لگا ہے۔ جبکہ لاہور کا قلعہ اور بادشاہی مسجد، مقبرہ جہانگیر، ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب ہمیں اپنی حدود میں ہونے کی وجہ سے اپنائیت کاا حساس دلاتے ہیں۔ گویا جغرافیائی تقسیم بھی انسانوں کے اندر تعصب و تضاد اور نفرت جیسے عوامل کے پیدا ہونے کا باعث بن جاتے ہیں۔ یہ سب محض اس بنا پر ہمارے اندر پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم میں شعوری و شعوری طور پر کہیں نہ کہیں یہ احساس ملکیت در آیا ہے اور اسی احساس ملکیت نے ہمارے اندر منفی رویے، تضاد اور نفرت کو جنم دے دیا ہے۔ یہی حال سرحد پار ان لوگوں کا بھی ہوگا جو اقبال کو لاہور میں دفن ہونے کا احساس ملکیت پاکستانیوں کو دینے کی بنا پر اقبال اور پاکستان کے لئے منفی سوچ، فکر اور تضاد رکھتے ہونگے۔
یہ تما م مذکور عوامل معاشرتی، تہذیبی اور معاشی سطح پر ایک ایسے کنویں میں د ھکیل رہے ہیں جس میں سے آسمان محدود اور گرد و پیش میں سے اپنی ذات کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ لہذا اگر ہمیں ان منفی رویوں سے باہر نکلنا ہے تو پھر ہمیں اس محدود کنویں سے باہر چھلانگ لگانا ہوگی اور اپنے اندر اس احساس کو بیدار کرنا ہوگا جو انسانیت کا علمبردار ہو۔ جب انسان کو مقدم ٹھہرانے کا احساس ہماری ترجیح اولین ہوگی تو پھر چہار اطراف خوش حالی ہمارے مقدر میں لکھ دی جائے گی۔ بس کمی صرف عمل کی ہے وگرنہ احساس کی نعمت سے قدرت نے ہر ذی فہم کو نوازا ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے