Home / افسانہ / میاں بیوی
urdu afsana

میاں بیوی

مصنف : جبران علی
گرمی اپنے زورں پر تھی۔ دوپہر کے وقت تو یہ اور منہ زور ہو جاتی، سورج بھی اپنی تپش سے ہر چیز کو جھلسا رہا تھا۔جس کی وجہ سے ہر طرف مکمل سکونت کا عالم چھایا ہوا تھا۔ درختوں کے پتے تک ساکن نظر آرہے تھے۔نصیر جب کسی آوارہ کوے کی کاں کاں کی آواز سنتا تو تب جا کر اسے زندگی کے ہونے کا نشان ملتا۔ وہ صبح سے اپنے کھیتوں میں بیلوں کی جوڑی سے ہل چلا رہا تھا۔ وہ بیلوں کی جوڑی سایے میں باندھ کر خود کچھ فاصلے پر ٹاہلی کی ٹھندی چھاوں میں بیٹھ گیا۔ اس نے دو گھونٹ لینے کے لیے حقے کی نِے کو ابھی پکڑا ہی تھا تو زبیدہ اسے دور سے آتی دکھائی دی۔ زبیدہ اس کی بیوی تھی۔ جو اس کے لیے روزانہ دوپہر کا کھانا کھیتوں میں لے کر آتی۔وہ صبح سے شام تک کھیتوں میں بیلوں کی مدد سے ہل چلاتا۔دونوں ایک دوسرے سے انتہا کی محبت کرتے۔ان کی شادی کوکچھ عرصہ ہی ہوا تھا۔ نصیر کسی اور گاؤں سے آ کر یہاں چند سال پہلے آباد ہوا اور زمین خرید کر کھیتی باڑی شروع کر دی ۔ نصیر کی محنت اور اعلیٰ کردار کو دیکھتے ہوئے زبیدہ کے گھر والوں نے زبیدہ کی شادی نصیر سے کر دی تھی۔ گاؤں میں کبھی بھی کسی نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان ذرا سی بھی نوک جھوک نہیں دیکھی۔ابھی تک ان کی کوئی اولاد نہ تھی لیکن اس کے باوجوددونوں بہت خوش تھے۔ پورا گاؤں ان دونوں میاں بیوی کی مثال دیتا۔لیکن کچھ دنوں سے ان کی مثالی محبت کو کسی کی نظر لگ گئی تھی۔زبیدہ ہر وقت اپنے خاوند سے کھنچی کھنچی سی رہتی۔ وہ اس کو منانے کے لیے لاکھ جتن کرتا مگر وہ کسی طرح بھی راضی نہ ہوتی۔اس کی ایک ہی ضد تھی’’ بتاؤ تم کہاں سے آئے ہو اور کون ہو؟‘‘نصیر کی عادت تھی کہ جب اس سے کوئی ناراض ہوجاتا تو اسے گھٹن محسوس ہونے لگتی۔ ہر وقت یہی خیال اس کے ذہن میں گردش کرتا رہتا۔ کسی کی ناراضی سے اس کے دل و دماغ پر ایک بوجھ سا رہتا اور پھر زبیدہ کی ناراضی تو کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
’’ آ گئی میری رانی؟‘‘ جب زبیدہ نے نصیر کے قریب ٹفن رکھا تو نصیر نے کہا۔
زبیدہ نے کوئی جواب نہ دیا ،ٹفن رکھنے کے بعد ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گئی۔ لیکن نصیر کوئی نہ کوئی بات کرتا رہا۔ زبیدہ نے اس کی کسی بات کا جواب نہ دیا۔ جب اس نے کھانا کھا لیا، زبیدہ نے خاموشی سے برتن سمیٹے اور گھر کی راہ لی۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ دونوں دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہتے اور جب دوپہر ڈھلتی تو نصیر بیلوں کی جوڑی ہل میں جوتنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا اور زبیدہ گھر کی راہ ناپتی۔یہ ان کی زندگی کا روزانہ کا معمول تھا۔
زبیدہ کے جانے کے بعد نصیر نے اپنی کمر سیدھی کرنے کے بہانے نیچے ہی سیدھا لیٹ گیا۔ وہ نیلے آسمان کو دیکھتے ہوئے زبیدہ کے متعلق سوچنے لگاکہ اسے کس طرح راضی کیا جائے۔اس کی ناراضی کا خیال اسے کے دل میں تیر بن کرمسلسل چبھتارہتا۔وہ انہیں ہی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھاکہ آسمان روئی کی طرح سفید بادلوں سے ڈھکتا گیا اور تھوڑی دیر بعد ان کے پیچھے شمال سے سیاہ کالے بادلوں کا جھنڈ آتا دکھائی دیا جو راعد کی طرح گرجتا آرہا تھا۔ دن کی روشنی کم ہونے لگی۔ پہلے اسے ہمیشہ گھر جانے کی جلدی ہوتی لیکن آج اس کا گھر جانے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ زبیدہ کا سوچ سوچ کر اس کا دل بیٹھنے لگتا۔ بادل کوئی حملہ آور فوج کی طرح تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے آسمان کو ڈھکنے لگے۔ان بادلوں کے ساتھ ٹھندی ہوا کے جھونکے آنے لگے۔لیکن نصیر کے ذہین میں خیالات کا سلسلہ رواں تھا۔اسے بارش ہونے کا خیال باقی نہ رہا۔بارش کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی خیالوں تلچھٹ میں بیٹھا یوں نکل آیا جیسے کچھ گم ہو گیا ہو۔ کچھ دیر گم صم بیٹھنے کے بعد ادھر اُدھر دیکھا تو اب سورج سیاہ بادلوں کی چادر کے پیچھے چھپ گیا تھا۔کچھ دیر میں ہی بوندیں برسنا شروع ہوئی۔اس خیال سے اس کا دل ڈوبنے لگا کہ اس کی حقیقت کھلنے پر زبیدہ اس کے ساتھ ایک منٹ بھی نہیں رہے گی۔ وہ اس منحوس گھڑی کو کوسنے لگا جب رات کے کسی پہر بستر پر اس کی غیر موجودگی میں زبیدہ کو اس پہ شک گزرا تھا۔ وہ باہر تھا اور کمرے کو اندر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔ زبیدہ سے علیحدگی کی پریشانی ہتھوڑا بن کر اس کے ذہن پر مسلسل برس رہی تھی۔ برستی ہوئی بارش دیکھ کر اسے احساس ہونے لگا کہ اس کو برباد کرنے کی خوشی میں ہو رہی ہے۔ جب انسان کے اندر کا موسم ہی اداس اور خزاں زدہ ہو تو پھر باہر کا موسم کتنا ہی خوشگوار کیوں نہ ہو اس کے لیے کوئی اثر نہیں رکھتا۔
جل تھل ہونے کے بعد ہر چیز اجلی اجلی نظر آنے لگی۔ موسم بھی اب کافی حد تک نکھر گیا تھا۔شام کوجب اندھیرا بڑھنے لگا وہ مردہ دل لیے اپنے پاؤں بیلوں کی جوڑی کے پیچھے گھسیٹتا گھر چلا گیا۔ گھر میں زبیدہ کھانا پکانے میں مصروف تھی۔ پہلے جب نصیر کھیتوں سے گھر آتا تو زبیدہ کی مسکراہٹ سے اس کی ساری تھکن دور ہو جاتی لیکن آج وہ اس سے بے پروا اپنے کام میں مصروف رہی۔ جب کھانا تیار ہوگیا تو نصیر کے آگے رکھ کر دوبارہ کام میں مصروف ہوگئی۔ کھانا کھاتے ہوئے لقمے اس کے گلے میں ہی اٹک گئے جن کو حلق سے نیچے اتارنے کے لیے اس نے دودھ کے دو گھونٹ پیے۔فکر کا دیو اسے اب بھی اپنی مٹھی میں جکڑے ہوئے تھا۔ رات ہوئی توزبیدہ منہ پھیر کر سو گئی۔ وہ بیچارا دیر تک آسمان پر ستاروں کی تکونے بناتے ہوئے ناجانے رات کے کسی پہر نیند کی وادی میں اتر گیا۔
جب کئی دن گرزنے کے بعد بھی زبیدہ نے اپنی ضد نہ چھوڑی تو نصیر نے ہتھیار ڈال دیے۔اس نے ٖٖفیصلہ کیا کہ وہ زبیدہ کو سچ سچ بتا دے گا۔ ایک دوپہر جب وہ کھیتوں میں اس کے لیے کھانا لے کر گئی تو نصیر نے کہا۔ ’’ تم نے اب ٹھان لی ہے کہ مجھ سے پوچھ کر ہی دم لو گی‘‘۔
زبیدہ نے خاموشی سے نظریں نیچے کیے ہوئے ہاں میں اپنے سر کوجنبش دی۔
’’ ٹھیک ہے آج میں تمھیں اپنے بارے میں سب کچھ بتا دوں گا۔ لیکن اس سے پہلے تمھیں اتنا ضرور کہوں گا تم آخری دفعہ سوچ لو نہیں تو بہت پچھتاؤ گی۔ ‘‘۔
نصیر کی اس بات پر زبیدہ کے ذہن میں اور تجسس پیدا ہوا کہ آخر ایسی کون سی بات ہے جو بتائی نہیں جا سکتی۔اور وہ نصیر سے مخاطب ہوئی ’’بھلا اس میں پچھتانے والی کیا بات ہے ۔ اپنے متعلق ہی تو بتانا ہے ، تم کہا ں سے آئے تھے‘‘
’’ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسی آپ کی مرضی ۔ چلو میرے ساتھ‘‘ وہ اٹھ کربوجھل قدموں سے چل دیا۔ نصیر کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا پہاڑ کی طرح بھاری ہو رہا تھا ۔ وہ دعا کر رہا تھا وقت یہیں تھم جائے یا پھر لمحے پھیل کر صدیاں بن جائیں لیکن خدا بھی ساری دعائیں نہیں سنتا۔
وہ دونوں چلتے ہوئے کچھ دور مٹی کے اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے۔ جس پر جگہ جگہ چوہوں کے بل اور اَک اور مختلف قسم کی خار دار جھاڑیاں اگئی ہوئیں تھیں۔ ٹیلے سے دوسری جانب ایک گہری گھائی تھی۔ جس میں بارش کا گدلا پانی ٹھہرا ہوا تھا۔وہ دونوں کنارے پرآ کر رک گئے۔ زبیدہ نصیر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ’’تمھیں اب اپنے سوال کا جواب مل جائے گا، اب غور سے دیکھنا میں کون ہوں‘‘ یہ کہتے ہی نصیر نے ٹیلے سے نیچے پانی میں چھلانگ لگا دی۔
اس لمحے زبیدہ نے نیچے پانی میں سیاہ سانپ گرتے ہوئے دیکھا۔ وہ سو سالہ سانپ تھا جو اپنی ’’جَوْ‘‘ بدل کر انسانوں کی آبادی میں آباد ہو گیا تھا۔ اب زبیدہ کھیتوں میں نصیر کے لیے روزانہ کھانا لے کر جاتی ہے لیکن اس دن کے بعد اسے نصیر کہیں نظر نہیں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے