Home / افسانہ / محبت اور جنگ
URDU POETRY

محبت اور جنگ

جبران علی
اریبہ آج پھر آزردہ چہرہ لیے اپنی دوست ارسہ کے گھر آئی۔ارسہ اس کی دوست تھی۔ جس سے وہ اپنی ساس کی باتیں کر کے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی۔ عورتوں میں یہ خصلت ہوتی ہے کہ وہ اپنا دکھ سکھ جب تک کسی سے کہہ کر ہمدردی حاصل نہیں کر لیتیں اس وقت تک سینے پر بھاری بوجھ محسوس کرتی رہتیں ہیں۔ارسہ اریبہ کے پاس آج پھر اسی غرض سے آئی تھی کہ وہ اپنے دل کا درد اس سے کہے۔ اریبہ کچھ دنوں سے اپنی ساس کی وجہ سے زیادہ ہی پریشان تھی۔ جس کا رویہ اریبہ کے ساتھ دن بہ دن روکھا ہوتا جا رہا تھا۔
ایک لمبی آہ بھر کر کہنے لگی: ’’کم بخت بڑھیا نے جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ ہر وقت جلی کٹی سنانے کے سوا کوئی کام ہی نہیں۔ اچھے بھلے گھر کو میرے لیے جہنم بنا کر رکھا ہوا ہے‘‘۔
ارسہ کے ماتھے پر حیرانی سے لکیریں ابھر آئیں :’’ کیا پھر آج کچھ کہا؟‘‘
” کہنا کیا ہے۔۔۔ کمینی نے وہی ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے، ہر وقت اسی ایک بات کا رونا روتی رہتی ہے۔
’’اچھا یار ۔۔۔۔ تم نے فیصل سے بات کی؟‘‘اریبہ نے ذرا توقف کے بعد پوچھا
فیصل ارسہ کا بوائے فرینڈ تھا جو ارسہ سے انتہا کی محبت کرتاتھا۔ان کی پاک و شفاف محبت کو کئی سال بیت چکے تھے۔
’’ہاں! ۔۔۔۔۔۔۔کی تو تھی‘‘۔ارسہ نے نحیف آواز میں جوا ب دیا۔
’’پھرکیا کہا اس نے؟‘‘ اریبہ نے بے چینی سے پوچھا۔
’’ کہتا تم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو تمہیں پتہ بھی ہے تم کیا کہہ رہی ہو۔ تم نے یہ سوچا بھی کیسے میں یہ کرنے کے تیار ہوجاؤں گا‘‘ ۔ ارسہ نے تفصیل سے بتایا
’’ اچھا۔۔۔ پھرتو وہ آپ سے ناراض ہو گیا ہے؟‘‘ اریبہ نے امید ٹوٹنے پر آہستگی سے پوچھا۔
’’ ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن تم فکر نہ کرو، وہ زیادہ دن مجھ سے ناراض نہیں رہ سکتا۔ میں اس کو منا لوں گی بلکہ آج شام کو دوبارہ اس سے بات کروں گی‘‘ ارسہ نے اریبہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
اریبہ روہانسی ہو کر بولی:
’’ہاں یار !تم ہی میرا گھر برباد ہونے سے بچا سکتی ہو۔تم کسی طرح اس کو منا لو۔میرے غریب بوڑھے ماں باپ نے پہلے ہی میرے لیے اپنی سکت سے زیادہ کیا ہے، اب ان میں اور ہمت نہیں۔ میرا گھر اجڑنے کا غم ان بیچاروں پر پہاڑ بن کر ٹوٹے گا۔ میں ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتی، پلیز ارسہ تم کچھ کرو‘‘۔اریبہ کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔
’’ہائے!۔۔۔۔۔۔ تم روتی کیوں ہو؟ میں نے کہاناں، تم فکر نہ کرو میں منا لوں گی۔وہ میری ہر بات مان لیتا ہے۔تم اپناجی ہلکان نہ کرو‘‘۔
ارسہ اس کو تسلیاں دیتی رہی کچھ دیر بعد اریبہ اٹھ کراپنے گھر کو چل دی جیسے کوئی مجرم مرے ہوئے دل سے پھانسی گھاٹ کی طرف جاتا ہے۔گھر میں اس کا دل مٹھی میں آ جاتا۔ہر وقت وہ ڈری اور سہمی ہوئی رہتی۔شام کو جب اس کا شوہر گھر آتا تو ماں کے’’گوڈے‘‘ سے لگ کر بیٹھ جاتا۔ ماں اپنی طرف سے اور چارباتیں لگا کر اس کے کان بھرتی رہتی۔ اور جاہل بڑھیا کی طرح اس معاملے میں اریبہ کو ہی قصور وار سمجھتاہے۔
فیصل پچھلی رات سے پریشان تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے؟وہ ارسہ کی بے باکی پر حیران تھا، وہ اس بات پر جتنا غور کرتا اتنا ہی الجھ کر رہ جاتا۔ وہ ارسہ کی عادت کو جانتا تھا جس بات پر وہ ڈٹ جاتی ہے ،وہ کروا کے چھوڑتی ہے۔رات سے لے کر اگلے دن شام تک اس نے اس کی بات کو سینکڑوں دفعہ سوچا،جس سے اس کا ذہن ماؤف ہو چکا تھااور ہر بار اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ ارسہ کی بات ہرگز نہیں مانے گا۔وہ اس ہی سوچ میں غرق تھا کہ ارسہ کی کال آ گئی۔
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم!
وعلیکم السلام!
کیسے ہو تم؟
’’ ٹھیک ‘‘۔
’’کیا کر رہے تھے؟‘‘ارسہ نے پوچھا۔
’’کچھ بھی نہیں‘‘فیصل نے مختصر جواب دیا۔
تھوڑی خاموشی کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ میری جان ابھی تک مجھ سے ناراض ہے ؟‘‘ارسہ نے پوچھا۔
’’نہیں تو‘‘
’’پھر کوئی بات کیوں نہیں کرتے جتنا پوچھتی ہوں بس اتنا ہی جواب دیتے ہو‘‘۔
’’بس ویسے ہی‘‘
’’اچھا یہ بتاؤ تم نے کیا سوچا؟‘‘ارسہ نے پوچھا
’’کس بارے میں؟‘‘فیصل نے کہا
’’یہ تم اچھی طرح جانتے ہو جو کل رات تم سے کہا تھا‘‘۔
’’دیکھو ارسہ یہ تمہارا جذباتی فیصلہ ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ میر ا ضمیر مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا‘‘ فیصل نے کہا
’’ٹھیک ہے پھر نہیں کر سکتے تو مجھے بھی آج کے بعد کال یا ایس ایم ایس نہ کرنا۔میں نے اپنی دوست سے وعدہ کیا تھا۔ تم سے اتنا سا کام نہیں ہوتا‘‘۔ ارسہ نے کہا
’’ ایک تو تم لڑکیا ں بہت جلد Emontional Black Mailing کرنے لگ جاتی ہیں۔یہ اتنا سا کام نہیں ہے بہت بڑاکام ہے۔‘‘فیصل نے کہا۔
’’بس مجھے کچھ نہیں پتہ، کرو گے تو ٹھیک ہے ورنہ مجھ سے آج کے بعد بات نہ کرنا‘‘ ارسہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔
’’میری بات سنو!۔۔۔۔۔۔ارسہ تم خود سوچو یہ گناہ ہے۔ یہ ساری عمر کا گناہ ہے، یہ میں اپنے سر کیسے لے لوں‘‘۔
’’گناہ ہے یا ثواب یہ میں نہیں جانتی، مجھے بس اپنی دوست کا گھر بچانا ہے ،وہ گناہ یا ثواب سے زیادہ ضروری ہے۔ ا س کے سوا اگر کوئی اور طریقہ ہوتا تو میں وہ اختیار کر لیتی لیکن اس کے سوا کوئی اور راہ نہیں ہے۔میں اس بیچاری کا گھر اجڑتا ہوا نہیں دیکھ سکتی‘‘۔اریبہ نے کہا
اس کا شوہر ہے وہ کیوں کچھ نہیں کرتا؟فیصل نے کہا
’’وہ کچھ کرتا ہوتا تو اریبہ اب تک ماں نہ بن جاتی، کمینہ نامرد ہے اور اوپر سے دیکھو کم بخت ساس نے بھی کہہ دیا بہو میں تو اور دو تین ماہ دیکھوں گی اگر کوئی امید ہوئی تو ٹھیک، نہیں تو میں اپنے بیٹے کے لیے کوئی اور لڑکی ڈھونڈوں گی۔ شاطربڑھیا بھی اریبہ میں ہی نقص نکالتی ہے۔ اب تم ہی بتاؤ بچاری اریبہ کیا کرے؟بے چاری کے والدین نے ساری عمر افلاس اور عسرت میں گزار دی۔ اریبہ سے بڑی بہن کی گھر میں بیٹھے بیٹھے بالوں میں چاندی چمکنے لگی لیکن غربت کے باعث شادی نہ کر سکے اور اگر اریبہ کی بڑی مشکل سے کی ہے تو اب سسرال والے اولاد کا بہانا بنا کر طلاق دینے کے در پہ ہیں۔اس بچاری کے ماں باپ تو اس صدمے سے مر ہی جائیں گے اور ایک تم ہو جو گناہ اور ثواب میں پڑے ہوئے ہو۔ گناہ ا ور ثو اب سے بالاتر ہو کر ایک گھر بچانے کے لیے سوچو جو تمہاری وجہ سے بچ سکتا ہے۔ تم یہ بھی تو سوچو اس مظلوم نے اس پر کتنا سوچا ہوگا اور کتنی مشکل سے یہ فیصلہ کیا ہوگا‘‘۔ارسہ نے کہا
فیصل کا ان باتوں سے کچھ دل پگھلا اور نرم لہجے میں بولا:
’’ ٹھیک ہے مجھے کچھ سوچنے کے لیے وقت دو‘‘ ۔ فیصل نے کہا
’’اتنا وقت نہیں ہے اگر تم نے کرنا ہے تو پھرتمہارے پاس آج کی ہی رات ہے، اس کا شوہر رات گھر نہیں ہوگا اور وہ اپنے کمرے میں اکیلی ہوگی۔ اگر تمہار ا ارادہ بن جائے تو ٹھیک نہیں تو میرا آج کے بعد تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘‘۔
اس کے بعد ارسہ نے کال منقطع کردی۔
سارا دن فیصل اس ادھیڑبن میں رہا کہ وہ ارسہ کی بات مانے یا نہ مانے؟صبح سے شام ہو گئی لیکن وہ کسی بھی فیصلے پر نہ پہنچ سکا۔ایک وقت میں وہ سوچتا کہ یہ سراسر گناہ ہے جسے وہ اپنے سر نہیں لے گا اور دوسرے لمحے ہی ارسہ کی مفارقت کا خیال آتا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔پھر رات کے کوئی پہلے پہر یہ فیصلہ کر کے اپنے بستر پر لیٹ گیا کہ وہ کبھی یہ کام نہیں کرے گا۔فیصلہ کرنے کے باوجود ایک بے چینی سی بدستور شامل حال رہی۔بستر پر لیٹے لیٹے رات کا کوئی دوسرا پہر آ گیا لیکن نیند تھی کہ آنکھوں سے کوسوں دور کھڑی تھی۔اس نے سونے کی بہت کوشش کی لیکن ہر بار ناکام ہوا۔اسے رہ رہ کر ارسہ کا خیال آ رہا تھا۔ اس کی ناراضی میں وہ ایک لمحہ بھی چین سے نہیں گزار سکتا تھا۔ پچھلے کئی سالوں سے ارسہ سے بات کر کے سونا اس کی عادت بن چکی تھی۔ آج اسے ایسے محسوس ہو رہا تھاجیسے وہ اپنی عزیز متاع کھو چکا ہے۔ یوں یوں رات گزرتی گئی ارسہ کا خیال اس کے حواس پر آکاس بیل کی طرح قبضہ جماتا گیا۔وہ چارپائی پر لیٹے لیٹے اچانک یہ سوچ کر بستر سے اٹھا کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے اور گھر سے باہر نکل کر اریبہ کے گھرکی طرف چل دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے