Home / کالم / مسلم لیگ ن بند گلی میں، خلاصی کیسے ہو؟
PAKISTAN MUSLIM LEAGUE N

مسلم لیگ ن بند گلی میں، خلاصی کیسے ہو؟

ارشد فاروق بٹ
اپنے اقتدار کے آخری مہینوں میں انقلابی بیانات دینےوالے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے اعصاب بالآخر جواب دے گئے ہیں، اور مزاحمتی تحریک آہستہ آہستہ کوٹ لکھپت جیل کی راہداریوں میں کہیں گم ہو گئی ہے۔
نئی حکومت کا تقریبا ایک سال مکمل ہونے کو ہے اور اب سبھی چہروں سے نقاب سرک رہے ہیں۔ ملک میں خاموش مارشل لاء نافذ ہے جس کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنما عوامی اجتماعات میں کر چکے ہیں۔
مقتدر قوتیں مسلم لیگ ن کا فی الوقت صفایا کر چکی ہیں، مسلم لیگ ن کی متبادل قیادت میں سیاسی تدبر نام کی کوئی چیز نہیں، میاں شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی اور میاں نوازشریف کی خاموشی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل پیش کر دیا گیا ہے جس سے مسلم لیگ ن کو مزید سیاسی نقصان ہو گا۔
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی بھی اپنی بقاء کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور بلاول بھٹوکی تقاریر میں خاصی تلخی آگئی ہے۔پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کی نسبت بڑی حد تک مزاحمتی سیاست کرنے کی اہلیت رکھتی ہےاور وہ اسی جانب بڑھ رہی ہے۔

تابناک ماضی رکھنے والی ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو یہ دن کیوں دیکھنا پڑ رہے ہیں؟ اس کا تعلق کمزور تنظیم سازی، اقربا پروری اور کرپشن کو گردانا جا سکتا ہے، عوام ان دونوں جماعتوں کی ریکارڈ کرپشن، سٹیٹس کو اور شاہانہ طرز زندگی سے بےزار ہیں اسی لیے تیسری قوت کو آگے آنے کا موقع ملا۔
مگر سوال یہ ہے کہ “کرپشن” مقتدر قوتوں کی نظر میں بڑا مسئلہ ہے یا وجہ کچھ اور ہے؟اس سوال کا جواب ملنا بہت مشکل ہے کہ مقتدر قوتیں اپنے دوراقتدار میں کرپشن کے مسئلے کو حل کیوں نہ کر پائیں؟اور کرپشن کیسز کی زدمیں صرف اپوزیشن اراکین ہی کیوں آ رہے ہیں؟
اس سوال کا جواب ملنا بھی بہت مشکل ہے کہ مشرف غداری کیس پر عدالتیں خاموش کیوں ہیں؟ عدلیہ کی آزادی کا ڈھول پیٹنے والے شاید جانتے ہوں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کا 2013 سے 2018 تک پانچ سالہ دور گزشتہ تمام جمہوری ادوار سے بہتر تھا۔ نواز شریف جن کیسز کی وجہ سے پابند سلاسل ہیں ان کا تعلق اس پانچ سالہ دور سے نہیں ہے، مسلم لیگ ن کے زوال کی صرف ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ مشرف غداری کیس ہے۔ بعد ازاں قیادت کی جانب سے کچھ احمقانہ اقدامات بھی اس کی وجہ بنے جن سے توبہ تائب ضروری ہے.
مسلم لیگ ن اگر بند گلی سے نکلنا چاہتی ہے تو ایک ہی راستہ ہے، اپنی تحریک کا فوکس اسی نقطے پر کر دیں جہاں سے مسائل شروع ہوئے تھے، اہل اقتدار کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے : عمران خان کی ناکامی کس کی ناکامی ہے!

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے